سولی کا منبر اور میثم تمار

حوزہ/حضرت میثم تمار علیہ الرحمہ وہ جری و بہادر، وہ سورما و دلیر و شیر غضنفر وہ عظیم شخصیت جس نے تکلم کی دہلیز پر قدم رکھ کر حق و حقانیت کے پرچم کو بلند کیا اپنے مولا کی محبت و مودت کا اعلان اس طرح کیا کہ زبان کٹ گئی مگر آواز حق ، راز حق کو دبنے نہیں دیا۔

تحریر: مولانا گلزار جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| حضرت میثم تمار علیہ الرحمہ وہ جری و بہادر، وہ سورما و دلیر و شیر غضنفر وہ عظیم شخصیت جس نے تکلم کی دہلیز پر قدم رکھ کر حق و حقانیت کے پرچم کو بلند کیا اپنے مولا کی محبت و مودت کا اعلان اس طرح کیا کہ زبان کٹ گئی مگر آواز حق، راز حق کو دبنے نہیں دیا۔ دشمن مجبور ہو گیا کہ زبان سے جاری بیان فضائل کو ختم کرنے کے لیے زبان کاٹے مگر یہ صداقت کی زبان تھی یہ محبت کی زبان تھی یہ عقیدت کی زبان تھی یہ اس جری و ساونت کی زبان تھی جس نے تکلم کو لفظوں کا جامہ نہیں پہنایا تھا بلکہ خون جگر سے منقبت کا محل تعمیر کیا تھا جو نوک زبان سے جاری ہو رہا تھا وہ سیل نور تھا جو چشمہ حکمت سے جاری ہو رہا تھا وہ حقیقت کا آبشار تھا جو کائنات کو روشنیاں بانٹ رہا تھا وہ پاکیزہ فکر تھی جو لوگوں کو حقائق سے آشنا کر رہی تھی کائنات میں دانش و بینش رکھنے والے افراد ذرا غورو خوض کریں کہ کس طرح سے ایک وقت کا خاموش مزاج شاگرد سلونی جب تکلم کی دہلیز پر قدم زن ہوتا ہے تو کیسے الفاظ کے خیموں میں معانی کی قندیلیں روشن کرتا ہے کس طرح سے اپنے لبوں کی حرکت سے تبسم کے دوش پر فضائل آل محمد ص کی نغمہ سرائی کرتا ہے عام حالات میں کسی خطیب کے لیے گفتگو کرنا آسان ہوتا ہے مگر جب دشمنوں کے نرغے میں گھرا ہو تلواروں کے سائے میں کھڑا ہو خنجروں کی چمک کے درمیان ڈٹا ہو جہاں جلاد تلوار کے پر تول رہا ہو اور سولی پر چڑھا دیا گیا ہو شہ رگ حیات منقطع ہونے والی ہو موت کا شکنجا کسا جا رہا ہو پنجہ اجل کی گرفت جسم میثم پر مضبوط ہوتی جا رہی ہو عمارت حیات کو منہدم کرنے کی سعی ناکام کی جا رہی ہو جہاں عام آدمی خوف و ہراس میں مبتلا ہو جہاں زبان خشک ہو جائے حلق میں کانٹے پڑ جائیں آنکھوں کے حلقوں سے خوف جھانک رہا ہو مگر ان حالات میں صراط صبر پر استقامت کا مظاہرہ وہی دکھا سکتا ہے جس نے دہلیز مملکت صبر و ضبط پر کاسہ شعور کو رکھا ہوا اور سمندر صبر سے کچھ قطرات دامن نطق میں سمیٹ لیے ہوں تو وہ قلندری مزاج رکھنے والا ایمان و ایقان کا خوگر، پیکر اخلاص وفا اس طرح تختہ دار و رسن سے متمسک ہو کہ گلا گھونٹ دیا جائے زبان کے ٹکڑے ٹکڑے کردئے جائیں مگر محبت آل محمد ص میں فرق نہ آئے یہ کائنات کا اک لوتا خطیب ہے جس نے خطابت کے جوہر منبر و محراب سے نہیں دکھائے ، بلکہ ایسی روش خطابت کو اپنایا ہے کہ تختہ دار کو سولی کا منبر بنا کے خطابت کا ہنر دکھایا ہےاور اپنے بیان کو مشتاق سخن سامعین و مخاطبین و مستمعین تک اس طرح پہنچایا کہ زمین و زماں کے حصار میں گردش لیل و نہار میں چاند سورج کے انقلاب میں حالات کی تبدیلی نے بہت سی چیزوں کو وادی سہو و نسیان میں ڈھکیل دیا فراموشی کے نہاں خانوں میں سجا دیا قدامت پسندی مقدر بنا دی کہنگی کا لباس زیب تن کر دیا مگر اج تک میثم کے جملے میثم کا تکلم میثم کا تبسم میثم کے لہجے کا تحکم وہ قصیدے وہ خطابت وہ بیان جس پر ہر مورخ حیران و سرگرداں ہے ہر محقق انگشت بدنداں ہے اور کائنات فکر کا ہر قلندر یہ سوچ رہا تھا کیا سولی پر تکلم کیا جا سکتا ہے ؟ کیا تختہ دار کو مقام بیان بنایا جا سکتا ہے؟ کیا آقا کے دہن سے نکلے ہوئے کلمات حکمت کو صداقت کی عبارت میں ڈھالا جا سکتا ہے؟ عداوتوں کے طوفان میں محبت کی کشتی کو کھینچا جا سکتا ہے؟ کیا سمندروں کی روانی کے سینے پر جہاز رانی کی جا سکتی ہے؟ کیا مسموم فضاؤں میں امرت گھولا جا سکتا ہے؟ کیا دشمنوں کے درمیان قاتلوں کے درمیان منقبت کے رازوں کو آشکارا کیا جا سکتا ہے؟ فضائل آل محمد ص کے بام و در پر چڑھا جا سکتا ہے؟ کیا سولی کی بلندی کو منبر بنایا جاسکتا؟

مگر ہاں اک مرحلہ یہ بھی ہیکہ میثم نے سولی پر تکلم اسوقت کیا جب سرو تن میں جدائی نہیں ہوئی تھی شہ رگ حیات منقطع نہیں ہوئی تھی پورا سراپا وجود محبت ال محمد ص میں گویا تھا مگر پھر بھی سولی پر تکلم کرنے والا جوان اور تیر سہ شعبہ پر تبسم کرنے والا شیر خوار اور ہے کٹا ہوا سر نوک نیزہ پر چڑھا دیا جائے تو نیزہ کی بلندی کو منبر بنا کر قران کی تلاوت کرنے والا اور ہے۔

اور ہونا بھی چاہیے کیونکہ اگر غلام تختہ دارو رسن سے سولی کی بلندی سے فضائل آل محمد علیہم السلام بیان کر سکتا ہے تو اولاد محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نوک نیزہ سے قرآن کی تلاوت کر کے کائنات کو درس حیات یقینا دے سکتے ہیں میثم آل محمد ص کے فضائل بیان کرتا ہے اور آل محمد قران کی آیتوں کی تلاوت کرتے ہیں شاید یہی راز سربستہ ہے جسے سرور کائنات نے انی تارک فیکم الثقلین کے پیرائے میں ڈھال کر امت کے گوش احساس سے ٹکرانے کے لیے وصیت کا جامہ پہنایا تاکہ عالم انسانیت کے لیے یہ ایک محکم دلیل بن جائے۔

حضرت میثم تمار علیہ الرحمہ ایک ایسے فرض شناس خطیب ہیں جو ایمان و ایقان کا اظہار لفظوں کے ذریعے کر رہے ہیں کتنا یقین تھا میثم کو اپنے مولا پر کہ جب میثم سے مولا نے کہا اک درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ اس درخت پر تم کو سولی دی جائے گی تو میثم ہر روز اس درخت کو پانی دیتے ہیں یہ شوق شہادت کا جذبہ ہی تھا یہ ایثار و قربانی کا نظریہ ہی تھا یہ محبت و مودت کا جوش و ولولہ ہی تھا یہ شوق لقائے الہی کا ترجمان ہی تھا یہ بارگاہ شہادت میں قدم زن ہونا ہی تھا یہ کائنات کا وہ واحد خطیب و ادیب تھا جو اپنی جائے شہادت کی آبیاری کر رہا تھا اور دنیا کویہ سبق پڑھایا جا رہا تھا ال محمد دشمنوں کو سیراب کرتے ہیں غلام آل محمد ص میثم اپنے مقام قتل پر آبیاری کرتے ہیں تاکہ دنیا دیکھ لے ہم ان درختوں کو بھی پیاسا نہیں چھوڑتے جہاں ہمارے خون کے قطرات گرنے ہوں یہی وجہ ہے کہ مقتل کی زمینوں کو خریدا جاتا ہے تاکہ جہاں خون کے قطرے گرنا ہوں وہ غیروں کے پاس نہ جائے۔

مول سجدوں کے لیے لیتے ہیں مقتل کی زمیں

ہم جبیں غیر کی چوکھٹ پہ کہاں رکھتے ہیں

اگر اج بھی دنیا حضرت میثم تمار جیسے بہادروں کے نقش کف پا پر اپنی جبین نے نیاز کو خم کر دے اور ان کے نقش قدم ان کے بتائے ہوئے راستوں پر چلنے لگے تو آج بھی کائنات میں میثم مزاج لوگ پیدا ہو سکتے ہیں شاید یہی وجہ ہیکہ اگر میثم مزاج لوگوں کو دیکھنا ہو تو ہر سرزمین پر نہیں ملیں گے بلکہ اج بھی اس مزاج کے لوگ سر پہ کفن باندھ کر وادی لبنان و ایران میں شوق شہادت سے سرشار ہونے کے لیے جذبہ شہادت سے سرفراز ہونے کے لیے اپنے سراپا وجود کو دشمنوں کے مقابلہ میں لئے ہوئے ہیں وہ ایمان و ایقان جو کل حضرت میثم کے مزاج میں رچا بسا تھا اج وہی ایمان و ایقان سید حسن نصر اللہ کے مزاج میں دیکھا جا سکتا ہے وہ نظریہ جو کل حضرت میثم کے وجود ذی جود میں پنپا ہوا تھا اج وہی نظریہ شہید محسن حججی کے چہرے کی چمک سے عیاں ہے اور لہو کی روانی میں نظر اتا ہے کل جو نظریہ حضرت میثم کا تھا اج وہی نظریہ باقر النمر کی چشم عقیدت سے چھلکتا ہوا نظر ارہا ہے جو پرسکون دل مطمئن قلب حضرت میثم کا تھا آج اسی کے نقش قدم پہ چلتا ہوا شیخ ابراہیم زکزکی کا نائیجئریا کے ہولناک مناظر میں وجود گواہ ہیکہ وہ بھی ہر آن اپنے اپ کو تختہ دار و رسن پر پا رہے ہیں اور نہ جانے کیسے کیسے مجاہدین اسلام ہیں کہ جو اج حضرت میثم کی سیرت طیبہ کے زندہ نقوش کی شکل میں موجود ہیں اور ان کے لب و لہجے سے میثم تمار کے کردار گوشۂ کائنات تک پہونچ رہے ہیں۔

اخر کلام میں ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ کیا لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ حضرت میثم تمار علیہ الرحمہ کی زبان کاٹ دی گئی اور ان کے وجود کو عدم کے سناٹوں میں ڈھکیل دیا گیا ؟ کیا میثم ہمیشہ کے لیے مر گئے اور ان کے وجود کو فنا کے گھاٹ اتار دیا گیا ؟ کیا میثم تمار وادی عدم میں، زمین فنا میں دفنا دیے گئے۔

نہیں ہرگز نہیں

ختم وہ ہوتا ہے جس کا ذکر مٹ جائے جس کے فضائل دم توڑ دیں جسکا وجودختم ہوتا ہے جس کے مناقب کا بیان بند ہو جائے ختم وہ ہوتا ہے جس کے قصائد شور شرابے میں گم ہو جائیں ختم وہ ہوتا ہے جو وادی عدم میں ڈھکیل دیا جائے مگر جس کا تکلم محفوظ رہ جائے جس کی روحانیت کا وجود باقی رہ جائے جس کا بیان قیامت تک مشعل راہ جرات و شجاعت بن جائے اس مرد مجاہد کا لہجہ اج بھی زندہ ہے اگر دنیا اس لہجے کی بازگشت سننا چاہتی ہے تو وادی لبنان میں حسن نصر اللہ کے خطاب پر کان دھرے اور غور سے سنے شاید اسی لب و لہجے کی جھلک اواز کی کھنک ارادے کی دمک لفظوں کی چمک نظر ائے اگر اسے میثم تمار کے جذبہ ایمانی کو حقیقت کے ائینے میں دیکھنا ہے تو غلام میثم تمار سید علی حسینی خامنہ ای مد ظلہ الوارف کے وجود میں دیکھو اگر علم و ہنر میثم تمار دیکھنا ہے تو غلام میثم تمار سید علی حسینی سیستانی میں دیکھو اگر میثم کی آنکھوں کی ہیبت و جواں مردی دیکھنی ہے تو جنرل قاسم سلیمانی کی چشم حقیقت شناس میں دیکھو اج بھی حضرت میثم کی صدائے باز گشت ہے جو گویا ان کے غلاموں کے لب و لہجے میں زندہ و جاوید نظر آرہی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ شہید راہ شہادت میں جان نہیں دیتا بلکہ شمع حیات کو روشن کرتا ہے تاکہ اس کے اجالے آنے والی نسل کے لیے ظلمتوں میں راستہ نکال سکیں۔

رب کریم ہمیں لہجے کی پختگی ارادوں کی مضبوطی اور قلب ناتواں کو قوت سے نوازے تاکہ ہم بھی جرات مندانہ خطابت کے ہنر سے فیضیاب ہو سکیں اور قلم فکر میں وسعت عطا فرما تاکہ تحریر کی حریت کے اجالے اندھیروں کے شہر میں پھیلا سکیں۔

نوٹ یہ ایک پرانا مضمون ہے لہذا بعض شخصیتوں کا ذکر انکی حیات پر مبنی ہے جبکہ اب وہ درجہ شہادت پر فائز ہو چکے ہیں؛ رب کریم درجات بلند فرمائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha